تالوں کا بندھن

عمران کو یقین تھا کہ پرانے گھر کی تزئین و آرائش ایک صاف ستھرا کام ہوگا۔ دادا جان کی پُرسکون سی حویلی، جو اب اس کی ملکیت تھی، میں ابتری اور خستہ حالی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ دن رات کام کرنے کے بعد، دیواروں سے پرانے پلاسٹر کو ہٹاتے ہٹاتے، اسے ایک عجیب سی جگہ ملی۔ ایک لکڑی کا ایک چھوٹا سا دروازہ، اتنا باریک کہ نظر نہ آتا۔ اس نے احتیاط سے اسے کھولا تو اندر ایک لکڑی کا ڈبہ ملا، جس میں مختلف سائز اور شکلوں کے پرانے تالے اور چابیاں تھیں۔

سب سے پہلے اس نے اس موٹے، زنگ آلود چابی کو اٹھایا جس کا سر ایک خوفناک جانور کے منہ کی طرح تھا۔ اسے فوراً بچپن کی وہ رات یاد آگئی جب وہ اندھیرے میں چھپے اس خوف سے کانپتا تھا۔ اس نے وہ چابی واپس رکھ دی، لیکن اگلے دن، جب وہ باورچی خانے میں اکیلا چائے بنا رہا تھا، اسے لگا کہ کوئی چیز دیواروں کے پیچھے چھپی ہے۔ وہ پرانی، خوفناک جانور کی شکل والی چابی اس کے ہاتھ میں آگئی۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے دبا رہا ہو، سانس روک رہا ہو۔ اس نے چابی پھینک دی، مگر اس کے ہاتھ پر گہری خراش تھی۔

یہ سلسلہ چلتا رہا۔ جب بھی وہ کوئی چابی اٹھاتا، اس کا بچپن کا کوئی ایسا خوف جو وہ بھول چکا تھا، اسے دوبارہ محسوس ہونے لگتا۔ ایک چھوٹی سی، کانٹے دار چابی کے ہاتھ لگتے ہی، اسے وہ بھوتوں سے بھرا ہوا پرانا کنواں یاد آگیا جو گاؤں کے باہر تھا۔ اب اسے وہ کنواں ہر وقت نظر آتا، اس کے ذہن کے کونے میں، اس سے آنے والی ٹھنڈک اس کے جسم میں محسوس ہوتی۔ ایک اور چابی، جو پتلی اور لمبی تھی، نے اسے اس چھوٹی سی، تنگ الماری کی یاد دلائی جس میں وہ بچپن میں چھپ جاتا تھا اور محسوس کرتا تھا کہ ہوا ختم ہو رہی ہے۔ اب جب بھی وہ کسی تنگ جگہ سے گزرتا، تو اسے وہی دم گھٹنے والا احساس محسوس ہوتا۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کیا یہ صرف اس کے دماغ کا کھیل تھا، پرانی یادوں کا ایک خوفناک اثر؟ یا ان چابیوں میں کوئی ایسی چیز تھی جو اس کے خوفوں کو حقیقت بنا رہی تھی؟ اس نے وہ سب چابیاں اٹھا کر صندوق میں بند کر دیں، اور اسے دور کہیں پھینکنے کا فیصلہ کیا۔ مگر اس کی انگلیوں پر اب بھی ان کی ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی۔

رات کو سونے سے پہلے، اس نے سب سے بڑی، سب سے بھاری چابی اٹھائی۔ اس کا سر ایک نوکیلی چیز کی طرح تھا، اور اسے فوراً اس چیز کی یاد آگئی جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرتا تھا۔ وہ چیز جو ہمیشہ اس کے بستر کے نیچے چھپی ہوتی تھی۔ اس نے چابی کو دیکھا، پھر اپنے بستر کی طرف دیکھا، اور اس کے پیروں تلے کچھ سخت محسوس ہوا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top